تازہ ترین

سردی کی شدت کے باعث نمونیا، الرجی اور بخار میں اضافہ، احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟

کلائمیٹ چینج کا زراعت ومعیشت پر اثر دیر سے جبکہ براہ راست اثر انسانی صحت پر ہوتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس سال سردی معمول سے زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے کلائمیٹ چینج کے سابق چیرمین ڈاکٹر اکمل خان نے کہا کہ یہ ایک قسم کی پیشگوئی ہے۔ جس کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا، لیکن بارش کے بغیر مسلسل خشک موسم ہونے کی وجہ سے رات دن کے مقابلے میں ٹھنڈی محسوس ہوتی ہے۔ اگر بارشیں معمول سے بہت کم یا بہت زیادہ ہوئی تو یہ پیشگوئی سچ بھی ثابت ہو سکتی ہیں ۔
وہ بتاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے طور طریقوں میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ قدرتی وسائل مثلاً پانی، خوراک، لکڑی، اور زمین کا بے تحاشا اور بلاضرورت استعمال کرنا اور بے جا ضیاع استعمال سے مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔
موسمیاتی تغیر درجہ حرارت میں تبدیلی سے منسلک ہے، جس کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھانےوالی گیسز جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بڑے پیمانے پر اخراج اور جنگلات کی کٹائی سے رقبے میں نمایاں کمی ہونا سرفہرست ہیں۔
پروفیسر اکمل خان نے مزید کہا کہ زیادہ تر ماحولیاتی تبدیلیوں کے لیے گلوبل وارمنگ کی بات کی جاتی ہے جس سے لوگ یہ تاثر لے رہے ہیں کہ اس سے مراد گرمی کی شدت میں اضافہ ہے، حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب شدید دیر پا سردی یا گرم اور متعدل مہینوں میں سخت سردی بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے موسموں کے تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک اپنے زیادہ وسائل کی وجہ سے کسی حد تک موسمیاتی تبدیلی کے برے اثرات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور کر بھی سکتے ہیں لیکن ہمارے جیسے ترقی پزیر ممالک مالی مشکلات، تحقیقی و سائنسی سہولتوں کے فقدان اور تربیت یافتہ عملے کی کمی کے باعث موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا سامنا نہیں کر سکتے اور منفی اثرات سے مسلسل متاثر ہو رہے ہیں۔
اوپن سورس ویب سائٹ کے مطابق لانینا جو موسمیاتی رحجان جو استوائی بحرالکاہل میں سطح سمندر درجہ حرارت کو ٹھںڈا کرنے کے لیے جانا جاتا ہے اس سال واپس آ سکتا ہےجس کے پیش نظرموسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2025-26 کا موسم سرما دہائیوں میں سے سرد ترین ہو سکتا ہے۔