تازہ ترین

ہماری صبح اتنی بے رونق کیوں، چڑیوں کی چہچہاہٹ کہا گئی؟

بڑے شہروں اور ان کے مضافات میں چڑیوں کی آبادی میں تیزی سے کمی دیکھنے کو آئی ہیں۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے چڑیوں کے ماہر ڈیوڈ سمر سمتھ گزشتہ پچاس سال سے چڑیوں پر تحقیق کر رہے ہیں انکا کہنا تھا کہ بیس سال پہلے کی بات ہے، جب ہم گھروں کے صحنوں، درختوں، پودوں کی کیاریوں، گھر کی بالکونی اور بجلی کے تاروں اور کھمبوں پر چڑیوں کے غول دیکھتے تھے۔ درختوں اور پودوں کے بعد چڑیوں کی گھونسلہ بنانے کی پسندیدہ جگہیں گھروں کے مچان اور طاق یا بلکونی ہوا کرتی تھی۔ مگر پھر ہماری زندگیوں میں ٹیکنالوجی کا انقلاب آنے سے جہاں بہت کچھ بدلا وہاں یہ ننھا پرندہ بھی ہم سے روٹھتا چلا گیا۔ اسکے علاوہ ماحولیاتی نظام کا خراب ہونا بھی ایک بڑا سبب ہے۔
چڑیا کو سماجی پرندہ کیوں کہا جاتا ہے؟
پشاور یونیورسٹی انوارمنٹل ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس نے اس حوالے سے ٹی این این کو بتایا کہ پرندے خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ نازک اور حساس بھی ہوتے ہیں۔ یہ ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہے اور غذائی زنجیر میں اس کا اہم کردار ہے۔
اس میں سے کچھ پرندے ہمارے آس پاس رہتے ہیں، جس کو ہم سماجی پرندے کہتے ہیں اور ان میں سے ایک سماجی پرندہ چڑیا ہے۔ چڑیا ہمارے ارد گرد ایسی جگہوں پر پایا جاتا ہے، جہاں سے انھیں دانہ یا کیڑے مکوڑے با آسانی مل سکیں۔
چڑیا ہمارے ایکو سسٹم کا حصہ ہے اور زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ کے آس پاس چڑیا موجود ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صاف ماحول میں رہ رہے ہیں. اگر آپ کے آس پاس چڑیوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صاف ماحول میں نہیں رہ رہے، اور آپ بلڈ پریش، شوگر, کینسر جیسے امراض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
چڑیا مختلف بیج ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں۔ بہت سی جگہوں پر اس کو غذا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیئے۔ چڑیا فالتو خوراک ضائع ہونے نہیں دیتی۔ چڑیا کھیتوں سے کیڑے مکوڑے صاف کرتی ہے، جس سے زرعی ادویات کے استعمال میں بچت ملتا ہے۔
چڑیا تفریح کا ذریعہ ہے یہ تفریح مقامات کو پر لطف اور دلکش بنا دیتے ہیں۔ یہ صاف ماحول کو جانچنے میں انڈیکیٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کی موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک جگہ کتنی صاف اور صحت مند ہے۔ اگر کسی جگہ چڑیا نظر نہ آئے تو آسانی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہاں پر کوئی ماحولیاتی مسئلہ موجود ہے۔
کیا پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے چڑیوں کی نسل میں کمی ہو رہی ہے؟
ڈاکٹر نفیس کا کہنا تھا کہ حالیہ ایک تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان, بھارت اور بنگلہ دیش میں چڑیوں کی آبادی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کی وجہ بڑے پیمانے پر ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی ہے. اگر دیکھا جائے تو کلائمئیٹ چینج کی وجہ سے پشاور میں 2022 سے اس کی آبادی میں بہت بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔ سال 2022 کے مارچ سے مئی تک ایک طویل ہیٹ ویوو چلی تھی، جس میں بارشیں نہیں ہوئی تھی اور درجہ حرارت بھی بہت زیادہ تھا۔ شید گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے پرندوں کو پانی نہیں مل سکا۔ زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے انڈوں سے بچے کم نکلے۔ جو کہ بہت سارے پرندے موت کا شکار ہونے کا سبب بنے۔