دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔ صنعتی اخراج، ٹرانسپورٹ، اور توانائی کے غیر مؤثر استعمال نے فضا میں گرین ہاؤس گیسوں، خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ، کی مقدار خطرناک حد تک بڑھا دی ہے۔ نتیجتاً، عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور شدید موسمیاتی واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ان اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
گلیشیئرز کے پگھلنے، غیر متوقع بارشوں، تباہ کن سیلابوں اور ہیٹ ویوز نے ملک کی معیشت، زراعت اور عوامی صحت پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
گلگت بلتستان میں گلیشیئر کے تودے گرنے اور 2010، 2022 اور 2025 کے سیلاب اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ حالیہ بارشوں اور سیلابوں نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ کلائمیٹ چینج اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے۔
زرعی تباہی کی سرکاری عداد و شمار
خیبر پختونخوا ان صوبوں میں شامل ہے جہاں موسمیاتی بحران کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ خریف سیزن میں طوفانی بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابوں نے ہزاروں ایکڑ زرعی زمین کو تباہ کر دیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں مجموعی طور پر 19 لاکھ 65 ہزار 656 ایکڑ زمین پر خریف کی فصلیں کاشت کی گئیں، جن میں سے 1 لاکھ 10393 ایکڑ زمین متاثر ہوئی جو کل رقبے کا تقریباً 5.2 فیصد بنتی ہے۔
سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان بونیر، باجوڑ اور سوات کے اضلاع میں ہوا۔ بونیر میں 23 ہزار 637 ایکڑ، باجوڑ میں 11 ہزار 404 ایکڑ اور سوات میں 3 ہزار 556 ایکڑ زمین متاثر ہوئی۔
اہم فصلیں، جیسے مکئی، چاول اور سبزیاں، بری طرح متاثر ہوئیں۔ کسانوں کے لیے یہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ برسوں کی محنت کے ضیاع کے مترادف ہے۔
چند لمحوں میں سب کچھ بہہ گیا
ضیاء اللہ، ضلع بونیر کے علاقے سوڈیر کے رہائشی ہیں۔ جس کی عمر تیس سال ہے، پیشے کے لحاظ سے دکاندار ہیں، مگر کھیتی باڑی بھی ان کا ذریعہ معاش ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ سیلاب سے تین دن قبل تک بارش مسلسل ہوتی رہی، لیکن جس روز تباہی آئی، صبح کے وقت موسم صاف تھا۔
ہم نے سمجھا خطرہ ٹل گیا ہے، مگر “بارششروع ہوئی اور چند لمحوں سب کچھ بہہ گیا” پانی کا بہاؤ اتنا تیز ہوا کہ پورا گاؤں ڈوب گیا۔ سیلابی ریلہ اپنے ساتھ پتھر ، درخت اور بڑے بڑے چٹان بہا کر لا رہا تھالوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔ جب روشنی ہوئی تو ہر کوئی اپنے پیاروں، مویشیوں اور فصلوں کو تلاش کر رہا تھا۔







