تازہ ترین

خیبر پختونخوا میں کسانوں کے لیے پانی کی قلت بڑا چیلنج

چارسدہ کے علاقے خیشگی ارنڈا کے زمیندار سمیع اللہ کے مطابق ان کی کل زمین سترہ ایکڑ پر مشتمل ہے، جو نہری نظام سے منسلک ہے، تاہم انہیں شدید پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نہر میں مقررہ وقت پر پانی نہ آنے کی وجہ سے فصلیں بروقت سیراب نہیں ہو پاتیں، جس سے کاشتکاری متاثر ہو رہی ہے اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔
سمیع اللہ کے مطابق اکثر تین سے چار راتیں جاگ کر فصلوں کی آبپاشی کی جاتی ہے، مگر زمین کا بڑا حصہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے، جس سے پیداوار میں شدید کمی واقع ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مناسب مقدار میں پانی دستیاب ہو تو پیداوار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ آج اگر انہیں دس ہزار روپے منافع ہو رہا ہے تو مناسب آبپاشی کے ذریعے یہ منافع ایک لاکھ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوشن کے سینئر ریجنل محقق ڈاکٹر کفایت زمان کے مطابق خیبر پختونخوا کا بڑا حصہ بارانی علاقوں پر مشتمل ہے، جبکہ باقی زمین نہری نظام کے تحت آبپاشی کی جاتی ہے۔
نہری علاقوں میں پانی کی تقسیم اور فراہمی میں مسائل ہیں، جبکہ بارانی علاقوں میں کسان محدود آبپاشی کے وسائل اور فصل کے لیے پانی کے درست وقت اور مقدار سے لاعلمی کا سامنا کرتے ہیں۔