تازہ ترین

کیا 5G ٹیکنالوجی شہد کی مکھیوں کے لیے خطرہ ہے؟

آئے دن سوشل میڈیا پر کوئی نا کوئی پوسٹ وائرل ہو جاتی ہے جو عوام میں بے چینی پیدا کر دیتی ہے. وہ یا غم میں آکر یا وجد میں آکر سبحان اللہ سبحان اللہ کے ساتھ وہ غیر تصدیق شدہ بات کو مزید آگے پھیلا دیتے ہیں. حال ہی میں ایک اور پوسٹ وائرل ہوئی ہے کہ 5g ٹیکنالوجی سے شہد کی مکھیاں ختم ہو رہی ہیں.
شہد کی مکھیوں کی بقا ایک عالمی مسئلہ ہے، اور حالیہ برسوں میں جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی آتی ہے، اس کے ممکنہ اثرات پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ 5G وائرلیس نیٹ ورک کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ یہ شہد کی مکھیوں کی آبادی کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور ان کے گم ہونے یعنی کالونی کولیپس ڈس آرڈر (CCD) کی ایک وجہ بن رہا ہے۔
حقیقت کیا ہے؟ کیا 5G واقعی مکھیوں کو متاثر کر رہا ہے؟
اب تک کسی بھی معتبر اور وسیع سائنسی تحقیق نے یہ ٹھوس طور پر ثابت نہیں کیا ہے کہ 5G ٹیکنالوجی شہد کی مکھیوں کی کالونیوں کے خاتمے کی براہ راست وجہ ہے.
5G
ٹیکنالوجی نسبتاً زیادہ فریکوئنسی پر کام کرتی ہے، اور ان مخصوص لہروں کا مکھیوں پر کیا اثر ہوتا ہے، اس پر تفصیلی تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ شہد کی مکھیوں کے جسم کے اندر چھوٹے Ferromagnetic Crystals ہوتے ہیں، جو انہیں زمین کے قدرتی مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے اور نیویگیشن کے لیے استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
کچھ ابتدائی مطالعات جو زیادہ تر 2G/3G یا وائی فائی کی کم فریکوئنسی والی لہروں پر کی گئی تھی، میں یہ اشارہ ملا تھا کہ قریبی EMFs ان کے برتاؤ، سمت کا تعین کرنے کی صلاحیت، اور چھتے میں انڈے دینے کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں.
یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ 5G کی لہریں مکھیوں کے اس “مقناطیسی کمپاس” کو ختم کر سکتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ خوراک کی تلاش کے بعد اپنے چھتے تک واپس نہیں پہنچ پاتیں اور کالونی تباہ ہو جاتی ہے مگر تاحال یہ بالکل غیر مصدقہ ہے.
مکھیوں کو اصل خطرات کیا ہیں؟
5G
کے غیر مصدقہ دعووں کے مقابلے میں، شہد کی مکھیوں کی آبادی کو ان عوامل سے حقیقی اور تسلیم شدہ خطرات لاحق ہیں جن کے اثرات سائنس میں پوری طرح سے ثابت ہو چکے ہیں:
1. کیڑے مار ادویات خاص طور پر نیونیکوٹینوائڈز جیسی طاقتور کیمیکل ادویات مکھیوں کے اعصابی نظام کو تباہ کرتی ہیں۔
2. Varroa mite
ایک چھوٹا سا کیڑا ہے جو مکھیوں کی کالونیوں کو تباہ کرنے کا سب سے بڑا مجرم ہے۔
3. رہائش کا خاتمہ. زراعت اور شہری ترقی کی وجہ سے پھولوں اور پودوں کا قدرتی ماحول ختم ہو رہا ہے۔
4. موسمیاتی تبدیلی. درجہ حرارت میں تبدیلی مکھیوں کی افزائش اور پھولوں کے کھلنے کے وقت کو غیر متوازن کر رہی ہے۔
مندرجہ بالا مسائل اصل وجوہات ہیں جو شہد کی مکھیوں کو بالکل واضح طور پر نقصان پہنچا رہے ہیں. ہماری ذمہ داری ہے کہ جب تک 5G اور مکھیوں پر مزید ٹھوس سائنسی تحقیق سامنے نہیں آتی، یہ دعویٰ کرنا کہ 5G ہی مکھیوں کے مرنے کی اہم وجہ ہے، درست اور مستند نہیں ہے۔
ایک ذمہ دار شہری کے طور پر، ہمیں غیر مصدقہ افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے ان حقیقی اور ثابت شدہ خطرات پر توجہ دینی چاہیے جو ہمارے شہد کی مکھیوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ مکھیوں کو بچانے کے لیے ہمیں کیڑے مار ادویات کے استعمال میں کمی لانی ہوگی اور اپنے باغات میں زیادہ سے زیادہ پھولدار پودے لگانے ہوں گے۔